آپ ہتھیلی اوپر اٹھائیں تو کیا اس طرح کا نشان بنتا ہے؟

43

پنے بازو کو تصویر میں دکھائے گئے انداز میں کسی ہموار سطح پر رکھئے اور پھر چھوٹی انگلی اور انگوٹھے کو ملاتے ہوئے ہاتھ کو اوپر کی جانب اٹھائیے۔ اب دیکھئے کہ بازو پر یہ ابھری ہوئی رگیں نظر آتی ہیں یا نہیں؟ یہاں دونوں صورتیں ممکن ہیں۔ کچھ لوگوں میں یہ ابھری ہوئی رگیں دکھائی دیں گی اور کچھ میں نہیں۔ تو یہ معاملہ کیا؟ویب سائٹ ’’وائرل نووا‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق دراصل یہ معاملہ انسانی ارتقاء سے جڑا ہے۔ یقیناً آپ جانتے ہوں گے کہ بندر ایک درخت سے دوسرے پر چھلانگ لگاتے ہیں تو اپنے طاقتور بازؤں کو استعمال کرتے ہوئے شاخوں کے ساتھ جھولتے چلے جاتے ہیں۔ بعض اوقات تو وہ لٹکتے ہوئے اپنے سارے جسم کا وزن صرف ایک ہاتھ پر ڈال سکتے ہیں۔ دراصل ان کے بازؤوں کو یہ طاقت بازؤں کے مضبوط پٹھوں سے ملتی ہے جو خاص اسی مقصد کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ اور آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ یہی پٹھے ہمارے بازؤں میں بھی موجود ہیں، البتہ یہ بندروں کے بازؤوں کے پٹھوں جیسے مضبوط نہیں۔ارتقائی بیالوجی کے ماہرین کہتے ہیں کہ جیسے جیسے انسان کا ارتقاء ہوتا چلا گیا دیگر کئی ساختوں کی طرح یہ مخصوص پٹھے بھی غائب ہوتے چلے گئے۔ انسان چونکہ درختوں سے جھولنا اور لٹکنا چھوڑ چکا ہے تو ان پٹھوں کا بھی وقت کے ساتھ اس کے جسم سے خاتمہ ہو چکا ہے، البتہ اس کی کمزور اور مدھم سی شکل اب بھی ہمارے بازؤں میں موجود ہے۔ بعض لوگوں کے جسم میں ماضی کی یہ نشانی نظر آتی ہے اور بعض کے جسم میں بالکل نظر نہیں آتی۔ بہرحال، یہ موجود بھی ہو تو ہم اس سے وہ کام نہیں لے سکتے جو بندر اس پٹھے سے آج بھی لیتے ہیں، یعنی درختوں سے جھولنا۔





کیٹاگری میں : post