لڑکیوں کی ایک دوسرے کو چپیڑیں

364

ملازمین کی اچھی کارکردگی کے لئے کمپنیا ں اچھی تدابیر اختیار کرتی ہیں لیکن ایک چینی کمپنی نے یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے ایسا بیہودہ طریقہ اپنایا کہ دیکھ کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جائے۔ یہ شرمناک حرکت بیوٹی اینڈ سکن کئیر کمپنی نانشانگ جنہوایوان کے باس کے کہنے پر کی گئی، جو غیر معیاری کارکردگی دکھانے والی خواتین ملازمین کو سبق سکھانا چاہتا تھا۔دی مرر کے مطابق کمپنی کی 14 ویں سالانہ میٹنگ کے موقع پربے حس باس نے گزشتہ سال کے دوران غیر تسلی بخش کارکردگی دکھانے والی خواتین ملازمین کو سٹیج پر بلا لیا۔ اس وقت کمپنی کے سینکڑوں دیگر ملازمین بھی ہال میں موجود تھے،جن کے سامنے اس نے درجن بھر خواتین کو جوڑوں کی صورت میں ایک دوسرے کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھنے کو کہا۔ اس کے بعد اس نے خواتین ملازمین سے کہا کہ وہ اپنی سزا کے طور پر ایک دوسری کے منہ پر تھپڑ مارنا شروع کریں، ورنہ خود کو ملازمت سے فارغ سمجھیں۔اس کے حکم پر مجبور خواتین نے سب کے سامنے ایک دوسری کے منہ پر تھپڑ برسانے شروع کر دئیے اور تب تک تھپڑ مارتی رہیں جب تک ان کے باس نے انہیں رکنے کا حکم نہیں دیا۔اس انسانیت سوز واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آتے ہی ایک ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ انٹرنیٹ صارفین کا کہنا ہے کہ کسی مہذب معاشرے میں انسانیت کی ایسی تذلیل کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ناقدین کا کہنا ہے کہ ملازمین کو کارکردگی کو بہتر کرنے کے لئے پوری دنیا میں کمپنیاں مہذب طریقے استعمال کرتی ہیں، اور خصوصاً نوکری سے نکال دینے کی دھمکی دے کر ملازمین کو سب کے سامنے ایک دوسرے تذلیل پر مجبور کرنا بے حد افسوسناک اور مذموم فعل ہے۔اشز سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد مطالبہ کر رہی ہے کہ کمپنی کے باس کو گرفتار کر کے اس کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے، تاہم یہ واضح نہیں کہ پولیس نے تاحال اس ضمن میں کوئی قدم اٹھایا ہے یا نہیں۔





کیٹاگری میں : post