کیا آپ جانتے ہیں کہ ماضی کی معروف ہیروئن شبنم سپر سٹار بننے سے پہلے کم معاوضے میں کیا کام کیا کرتی تھیں ایسا راز جس سے آپ پہلے واقف نہ ہونگے

1,794

پاکستان کی فلمی صنعت کا ایک نہایت بڑا نام علی سفیان آفاقی، وہ اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب فلمی الف لیلیٰ میں لکھتے ہیں کہ پاکستان کی معروف اداکارہ شبنم جن کا اصل نام جھرنا تھا مشرقی پاکستان(موجودہ بنگلہ دیش)کی ایک نہایت ابھرتی ہوئی اداکارہ کے طور پر سامنے آئیں مگر وہ مغربی پاکستان آکر اردو فلموں میں کام کرنے سے خوفزدہ تھیں کیونکہانہیں بتایا گیا تھا کہ یہاں کی فلمی صنعت پر غنڈوں اور بدمعاشوں کا راج ہے۔ علی سفیان آفاقی لکھتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کی فلم ’’تلاش‘‘ کی نمائش کے ساتھ ہی ایک نئی ہیروئن نے سارے پاکستان کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیا۔ یہ شبنم تھیں، ان کا نام تو جھرنا تھا، اس نام سے ڈھاکا کی چند بنگالی فلموں میں کام بھی کیا اور یہ فلمیں کامیاب بھی ہوئیں۔ اس سے متاثر ہو کر بلکہ حوصلہ پا کر فلم سازوہدایت کار احتشام نے ایک اردو فلم ’’تلاش‘‘ بنانے کا فیصلہ کیا اور اس میں شبنم کو ہیروئن کے طور پر پیش کیا۔
’’تلاش‘‘ شبنم کی پہلی اردو فلم تھی اور اس قدر کامیاب ہوئی کہ مشرق و مغرب میں اس نے نئے ریکارڈ قائم کر دیئے۔ کراچی سے خیبر اور ڈھاکا سے چٹاگانگ تک ہر جگہ اس فلم نے کامیابی حاصل کی اور شبنم ایک نئی ہیروئن کے طور پر سامنے آئیں۔ شبنم کی مقبولیت اور تازگی کو دیکھ کر مغربی پاکستان کے بہت سے فلم سازوں اور ہدایت کاروں نے بھی انہیں اپنی فلموں میں کاسٹ کرنے کا قصد کیا اور اس غرض سے ڈھاکا میں ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر مطلب براری نہ ہوئی۔ معلوم ہوا کہ شبنم کو مغربی پاکستان کی فلمی صنعت کے بارے میں خوف زدہ کر دیا گیا ہے کہ وہاں تو غنڈوں اور بدمعاشوں کا راج ہے، کوئی عورت اس ماحول میں کام نہیں کر سکتی۔مشرقی پاکستان میں فلمیں بہت کم لاگت سے بنائی جاتی تھیں ۔اردو فلموں کے اخراجات بھی زیادہ نہیں ہوتے تھے۔ نئے نئے اداکار متعارف کرائے جاتے تھے جس کی وجہ سے اخراجات اور بھی کم ہو جاتے تھے۔ شبنم کو ایک اردو فلم میں کام کرنے کا موقع مل رہا تھا اس لئے وہ بہت کم معاوضے پر بھی کام کرنے پر آمادہ ہو گئیں۔
ظاہر ہے کہ انہیں ایک بہت بڑی مارکیٹ میّسر آنے والی تھی۔ اس لالچ میں انہوں نے فلم ساز کا برائے نام معاوضہبھی قبول کر لیا۔ یہ فلم ہٹ ہو گئی تو فلمی دستور کے مطابق وہ اچانک سُپر اسٹار بن گئیں۔ ڈھاکا میں بھی ان کی مانگ میں اضافہ ہو گیا اور مغربی پاکستان کے فلم ساز بھی ان کے طلب گار ہو گئے۔ بیس ہزار روپے اس زمانے میں بہت زیادہ معاوضہ سمجھا جاتا تھا۔ فلم سازوں نے شبنم کو ایک فلم کے لئے بیس ہزار روپے کی پیشکش بھی کر دی مگر شبنم اتنی سہمی ہوئی تھیںکہ پھر بھی مغربی پاکستان کی فلموں میں کام کرنے پر راضی نہ ہوئیں۔ چند مہم جُو فلم ساز کراچی اور لاہور سے بذات خود ڈھاکا پہنچے اور شبنم سے ملنے کی کوشش کی۔ ڈھاکا کے فلم سازوں کو بخوبی یہ علم تھا کہ اگر شبنم ایک بار کراچی یا لاہور پہنچ گئیں تو پھر ڈھاکا واپس آنے کا نام نہیں لیں گی۔ مغربی پاکستان میں بڑے اور معروف فلم سازوں اور ہدایت کاروں کے ساتھ زیادہمعاوضے پر کام کرنے کے بعد ڈھاکا کی فلموں میں ان کے لئے کوئی کشش باقی نہ رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مغربی پاکستان کے فلمی ماحول کے بارے میں ایسی خبریں مشہور کر دی تھیں جن کی وجہ سے خواتین فن کار تو کیا مرد بھی مغربی پاکستان کا رُخ کرتے ہوئے گھبراتے تھے۔ دیکھا جائے تو ڈھاکا کے فلم ساز اس میں حق بجانب بھی تھے۔
بڑی مشکل سےوہ کسی اداکار یا اداکارہ کو دریافت کر کے فلموں میں پیش کرتے تھے اور وہ بہتر مستقبل کی خاطر مغربی پاکستان کا ہو کر رہ جاتا تھا۔ کراچی والوں کو یہی شکایت لاہورسے بھی تھی کہ وہ اداکار اور گلوکار تلاش کرتے ہیں اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد وہ کراچی سے لاہور کا ٹکٹ کٹا لیتے ہیں، مگر لاہور والے بھی اپنی جگہ حق بجانب ہیں۔ لاہور ہمیشہ سے فلمی صنعت کامرکز رہا ہے یہاں بہت زیادہ فلمیں بنائی جاتی ہیں جن کے لئے زیادہ فن کاروں کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن یہاں اداکاروں اور اداکاراؤں کی ہمیشہ قلّت رہی ہے۔ کبھی ایسا نہ ہوا کہ صف اوّل کے ایک درجن یا نصف درجن فن کار دستیاب ہوں، ایک وقت میں صف اوّل کے تین ہیرو اور تین ہیروئنوں سے زیادہ انہیں کبھی نصیب نہ ہوئے۔ اُدھر ہر فلم ساز کی خواہش ہوتی ہے کہوہ مقبول ترین فن کاروں کی خدمات سے فائدہ اٹھائے۔ یہی وجہ ہے کہ مٹھّی بھر اداکار منہ مانگے معاوضے وصول کرتے رہتے ہیں اور اپنی شرائط منواتے ہیں۔
ہم نے اپنی نئی فلم کی منصوبہ بندی شروع کی تو ایک دن حسن طارق صاحب نے ہم سے کہا ’’آفاقی صاحب اگر ہم اپنی نئی فلم کے لئے شبنم کو کاسٹ کر لیں تو کیسا رہے؟‘‘ہم نے کہا ’’مگر شبنم تو مغربی پاکستان آنے کے لئے تیّار نہیں ہے۔‘‘کہنے لگے ’’نہ جانے کس قسم کے لوگ شبنم کو سائن کرنے کے لئے گئے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم جائیں گے تو شبنم مان جائے گی۔‘‘میاں خادم حسین بھی اس تجویز میں پیش پیش تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اگر شبنم کو لے کر فلم بنائی جائے تو فلم بینوں کو اس میں بہت زیادہ دلچسپی ہو گی۔