کمپیو ٹر اور انٹر نیٹ کی مصر وفیات بچے جسمانی طور پر کمزور کتابوں سے دور ہو رہے ہیں…..!

628

اس دور میں بچے جس طرح کمپیوٹر گیمز ،ٹی وی اور فیس بک میں دلچسپی لے رہے ہیں،اس کے نتیجے میں ان کی جسمانی قوت کم ہوتی جارہی ہے ۔اب سے دس سال پہلے پرائمری اسکول کے بچے جسمانی طور پر جتنے فٹ،چشت اور پھرتیلے ہو ا کرتے تھے اب یہ صلاحیتیں ان میں کم دیکھی جا رہی ہیں۔ معمولی ورزشیں بھی ان کو بھاری لگتی ہیں۔1990ء کی دہائی کے بچے جتنی مرتبہ اٹھک بیٹھک آرام سے کر لیا کر تے تھے اور جتنی دیر تک رسے پکڑ کر جھول سکتے تھے ،آج کل کے بچے وہ نہیں کر پاتے ۔ریسر چرز کا کہنا ہے کہ ان کے بازو کمزور محسوس ہو تے ہیں اور چیزوں کو اپنے ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑنے کی صلاحیت پہلے سے کم لگتی ہے ۔
اس ریسرچ کے سلسلے میں ایسکیس کے 300سے زائد پرائمری اسکول کے بچوں کا جائزہ لیا گیا تھا جس میں یہ دیکھا گیا کہ صوفے میں دھنس کر ٹی وی دیکھنے یا ایک ہی جگہ بیٹھ کر کمپیوٹر گیمز میں مصروف رہنے کی عادت نے جسمانی طور پر ان کو بہت نقصان پہنچا یا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر گیمز اور انٹر نیٹ پر فیس بک اور ٹوئٹر جیسے سماجی رابطوں کے نیٹ ورکس نے بچوں کو گھر کے باہر کھیل کود سے محروم کر دیا ہے ۔آج کے بچے گھر سے باہر نکل کے گھروندے بنانے اور درختوں پر چڑ ھنے جیسے کھیل اور تفریح بھول چکے ہیں ۔خراب ماحول اور ٹر یفک حادثات کے خطرات سے ڈر کر والدین بھی اپنے بچوں کو گھر سے باہر بھیجنے کی ہمت نہیں کر تے ۔
بچوں کی صحت سے متعلق ایک طبی جریدے ’’ایکٹا پیڈی ایٹریکا‘‘ میں شامل ہو نے والے اس طبی جائزے میں بتایاگیا کہ اس ضمن میں 2008ء میں 10سال کی عمر والے 315بچوں کے جسمانی فٹنس کا موازنہ 1998ء میں اس عمر کے 309بچوں سے کیا گیا تھا۔1998ء میں 5فیصد بچے لوہے کے پائپ سے لٹک کر خود اپنا وزن سنبھالنے میں ناکام رہے تھے جبکہ 10سال بعد ان کی تعداد دگنی یعنی 10فیصد ہو گئی تھی ۔اس عر صے کے دوران بچوں کے بازو کی قوت 10جبکہ چیزوں کو گرفت میں لینے کی صلاحیت 7فیصد تک کم محسوس کی گئی۔اسی طرح اٹھک بیٹھک کی تعداد میں بھی 27فیصد کمی آگئی تھی یا ہم 1998ء اور2008ء کے دوران بچوں کا اوسط باڈی ماس انڈیکس تقریباً یکساں تھا یعنی ان کی جسمانی ہیئت میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔
اسی طرح کی ایک اور جا ئزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپیوٹر گیمز کی وجہ سے بچوں کی پڑھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو رہی ہے ۔سوئیڈن میں گو تھین برگ یونیورسٹی کی ریسرچ ٹیم نے اپنی تحقیق میں یہ بات نوٹ کی کہ جن ملکوں کے گھروں میں کم از کم ایک کمپیوٹر موجود ہے وہاں پرورش پانے والے 9اور 10سال کی عمر کے بچوں کی پڑھنے کی صلاحیت گھٹ گئی ہے ۔ریسرچ ٹیم نے سوئیڈن کے علاوہ امریکا ،اٹلی اور ہنگری میں بھی بچوں کی اس صلاحیت کا جائزہ لیاتھا۔انہوں نے دیکھا کہ 1991ء کے بعد سے امریکا او ر سوئیڈن میں پڑھنے کی اوسط صلاحیت کم ہو ئی ہے جبکہ اٹلی اور ہنگری میں بچوں کی پڑھنے کی صلاحیت بہتر تھی۔
یہ وہ دو ممالک ہیں جہاں لوگ عموماً گھروں میں کمپیوٹر استعمال نہیں کر تے۔امریکا اور سوئیڈن کے بچوں نے لائبریری سے کتابیں جاری کرانے میں بھی کم دلچسپ لی اور فرصت کے اوقات میں کتب بینی میں کم وقت صرف کیا ۔ریسرچرز نے یہ بھی دیکھا کہ لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی پڑھنے کی صلاحیت زیادہ گھٹ گئی تھی ۔شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ لڑکے ویڈیو گیمز پر اور زیادہ وقت صرف کر رہے کر رہے تھے ۔کمپیوٹر گیمز کھیلنے کا ایک نقصان یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اس سے بچوں کے جوڑوں میں درد بھی ہو جا تا ہے ۔امریکی ریسرچرز کا کہنا ہے کہ جو بچے XboxesاورGameboysایک گھنٹہ کھیلنے کے بعد اضافی گھنٹہ کھیلتے ہیں ان کی کلائیوں اور انگلیوں میں درد کا خطرہ دگنا ہو جا تا ہے ۔ اسی طرح 9سے 15سال کی عمر کے 257بچوں کے ایک جائزے میں دیکھا گیا ہے کہ جو لڑکیا ں iPhonesاستعمال کرتے ہو ئے ٹیکسٹ پیغامات بھیجنے میں دلچسپی لے رہی تھیں ان کے جوڑوں میں لڑکوں سے دگنا زیادہ درد محسوس ہو رہا تھا۔