اگر عورت کو غصہ آ جائے تو جوتا اٹھا کر نہیں مار سکتی کیونکہ اسے پتا ہے کہ۔۔۔

1,112

اگر عورت کو غصہ آ جائے تو جوتا اٹھا کر نہیں مار سکتی کیونکہ اسے تعلیم دی گئی ہے کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے. اگر بدزبانی کرے تو مرد اس سے زیادہ بدزبانی کرنے کو موجود ہوتا ہے اور اگر گالی دے تو کسے دے؟ ہر گالی تو ماں بہن کے بارے میں ہوتی ہے، تو کیا اپنے آپ کو گالی دے؟مرد کے ہاتھوں عورت کی تضحیک کا رویہ ہمارے معاشرے میں عام ہے.گو کہ انگریزی بھی پیچھے نہیں. ان کے ہاں بھی عورت کو برے ناموں سے پکارا جاتا ہے اور مرد کے لیے چند گنی چُنی گالیاں ہیں. لیکن برِصغیر میں تو اوّل سے آخر تک ساری گالیاں صرف اور صرف عورت سے منسوب ہیں. گالیاں ہی نہیں…

اکثر محاورے بھی عورت کی تذلیل کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں. پیر کی جوتی عورت، عورت کا تو دماغ ہی چھوٹا ہے، عورت مکار ہوتی ہے،عورت کے پیٹ میں بات ہی نہیں ٹھہرتی، عورت کمزور ہوتی ہے، عورت لگائی بجھائی کرتی ہے، عورت کو مرد سے زیادہ زیور سے پیار ہوتا ہے، عورت بے وفا ہوتی ہے، عورت بد زبان ہوتی ہے

کیا یہ ایک تلخ‌حقیقت نہیں‌کہ ہمارے معاشرے میں‌50 فیصد سے بھی زیادہ مرد آج بھی اپنی بیوی کو ہلکی پھلکی گالی دے دینا اپنا حق سمجھتے ہیں، کیا یہ حقیقت نہیں‌کہ ہمارے ہاں‌یہی 50 فیصد سے زیادہ مرد جو عورت کو نازیبا بات کہہ دینا اپنا حق سمجھتے ہیں‌یہی مرد عورت کو اپنا ذاتی ملازم بھی سمجھتے ہیں؟ کوئی سمجھائے تو کہیں‌گے اللہ معاف کرے ایسی کوئی بات ہمارے ذہن میں‌نہیں‌مگر کیا یہ بھی حقیقت نہیں‌کہ بات ذہن میں‌نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں‌پڑتا اگر آپ کا رویہ ہی ٹھیک نہ ہوتو؟

ناشتے میں چائے ٹھنڈی ہوگئی میرا موڈ آف ہوگیا اب مجھ سے بات مت کرو…. میں‌نے کہا تھا میرے کپڑے ٹھیک سے استری کیا کرو یہ کیا بیڑہ غرق کردیا ہے کچھ تو میری عزت کا خیال کرو… ایسی باتیں‌گھروں‌میں‌کون کرتا ہے؟ کیا خاوند کے علاوہ بیوی کبھی یہ جرات کرے ایسی گستاخی کرے تو معاف کیا جائے گا؟؟؟ گوارا کرلیا جائے گا؟؟؟ برداشت کرے گا کوئی؟؟؟

ہمارے ہاں‌مردوں‌کو اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنا چاہئیے کہ ایسی گائے جیسے بیویاں‌مل جاتی ہے کسی مغربی عورت کے پلے اس قسم کے انا پرست خاوند کو 2 دن ڈال کر دیکھیں‌لگ پتا جائے گا کہ دنیا کہاں‌کی کہاں‌پنہچ گئی ہے!!!! یہ صرف ہم پاکستانی عورتیں‌ہیں‌جو برداشت کا اس قدر عظیم جذبہ رکھتی ہیں‌کیونکہ ہم مسلمان ہیں…. اللہ کا خوف دلوں‌میں‌باقی ہے!

جس عزت کو ہمارے مرد اپنا حق سمجھتے ہیں وہ ہم عورتوں‌کی قربانی ہے، ہماری زندگی کی بس یہی وقعت ہے؟؟؟ اپنے نفس پر جتنا قابو ایک مسلمان عورت رکھتی ہے مرد سوچ بھی نہیں‌سکتا. میڈیا کی کیا مجال ہے خراب کرے. کسی غیر ملکی عورت سے شادی کرکے دکھاؤ چار دن گزارہ کرکے دیکھو دن میں‌تارے نظر آجائیں گے یہاں‌تو جمائما عمران جیسے آئیڈیل کے ساتھ نہ رہ پائی ہم عورتیں جیسے گزارہ کرتی ہیں ان مردوں کو ساری زندگی اندازہ بھی نہیں‌ہوسکتا.

یہ سب باتیں عورت کے حوالے سے ہمارے رویے کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں.حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں توازن قائم رکھنے کے لئے عورت اور مرد کا آپس میں دوستانہ رویہ، باہمی عزت و احترام اور اور آپس میں مکالمہ انسانیت کی قدروں کا اساس ہے. اس کے مقابلے میں عورت اور مرد کے درمیان گالیوں کا تبادلہ انسانیت کی ضد ہے.بچہ جب خاندان اور علاقے میں استعمال ہونے والی گالیاں سیکھتا ہے تو اس کی نفسیات کو بھی نقصان پہنچتا ہے.

اس کے اندر بڑوں بالخصوص عورتوں کا احترام کرنے کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے. ماں جسے سب سے زیادہ احترام کا درجہ ملنا چاہیے، پھر اسی کے ساتھ تُو تڑاخ سے بولنے کو عین مردانگی سمجھتا ہے.معاشرتی سطح پر دیکھیں تو ہر بے جان اور نحیف چیز کو نسوانیت سے منسلک کرنا اور طاقتور کو مردانگی کا درجہ دیا جاتا ہے. جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ عورت کی نفاست، سلیقہ مندی اور آداب ہیں جو ایک مرد کو مرد بناتے ہیں.

میرے اپنے دل کی بات ہے کہ جو ہمارے بھائی یہ کہتے ہیں‌کہ میڈیا نے عورت کو آزاد خیال کردیا ہے باغی کردیا ہے انہیں‌یہ بھی سوچنا چاہئیے کہ اگر ایسا ہوا ہے تو ہوا کیوں‌ہے؟ کہیں‌اس کی وجہ ماضی کا بے پناہ متشدد رویہ، ہروقت کی گھٹن، سسک سسک کر جینا، شوہر کے ڈر اور خوف سے ہروقت کانپتے رہنااور جا بیٹی اب سسرال سے تیرا جنازہ ہی نکلے گا تو نہ نکلنا جیسی گھناؤنی بازگشت تو نہیں؟

سوچ کر تو دیکھیں… جواب آپ کے ہم سب کے دلوں‌کے اندر پہلے سے ہی موجود ہے. اللہ ہم سب کو ہدایت دے کاش ہم اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کا حسن سلوک اُن ازواج مطہرات کے ساتھ غور سے دیکھیں‌تو عورت کو کیا پڑی ہے خراب ہوتی پھرے؟ آزادی مانگتی پھرے؟ بغاوتیں‌کرتی پھرے؟ حق مارا گیا ہے جناب… بہت مارا گیا ہے!!!

جو مرد اپنی بیوی سے مساوات اور نرمی کا سلوک رکھے اور اسے اپنی زندگی میں‌برابر کا ساتھی سمجھے اس کی بیوی کو آزادی کی ہرگز ضرورت نہیں‌ہوتی کیونکہ وہ اپنے گھر میں‌پہلے سے ہی آزاد ہوتی ہے اور عورت کو صرف اپنے گھر میں آزادی چاہیے جو مرد اسے وہ دے دیتا ہے اُس کی بیوی کبھی باہر کی آزادی نہیں‌مانگتی عورت کا گلشن اس کی دُنیا گھر ہے اسے اس کی کائنات کا پورا اختیار دیں محبت اور عزت کیساتھ… پھر دیکھیں‌ زندگی میں‌کیسے پھول کھلتے ہیں.

جو عورت کو گالی دے وہ مرد کیسے ہو سکتا ہے؟

فیس بک پر کمنٹس میں اپنے رائے سے ضرور آگاہ کریں. آپ کے کمنٹس کا انتظار رہتا ہے. اچھی تحریر اپنے قاری کے زوق مطالعہ اور پسندیدگی کے بغیر کچھ بھی نہیں‌سوائے کاغذ پر گھسیٹے گئے کچھ لفظوں کے جن کی کوئی وقعت نہیں‌ہوتی.