جو مائیں‌اپنے بچوں کی تربیت کو لیکر فکرمند رہتی ہیں وہ میرا یہ پوسٹ‌لازمی دیکھیں‌. میرے چائلڈ ہوم ٹریننگ سُپر آئیڈیاز

2,732

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے اولاد کا ہونا بڑی نعمت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آنکھوں کی ٹھنڈک کہا ہے۔اس لئے اولاد کا ہونا خوش بختی کی علامت ہےگھر کے اندر اگر بچوں اور ماں باپ کے درمیان کمیونیکیشن نہ ہو تو اس سے بچوں کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔آپ کبھی بھی اپنے بچوں کے درمیان محبت کی پیمائش نہیں کر سکتے یہ ایک ایسا عمل ہے جو کبھی نہیں رکتا بلکہ مسلسل جاری رہتا ہے۔آپکو اپنے بچے کو سمجھنے کیلئے بہت سے ایسے کام کرنا ہوں گے جن کے کرنے سے آپس کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔آج میں‌آپ کو بچوں کی تربیت کرنے کے حوالے سے کچھ ایسی باتیں‌بتانی جارہی ہوں جن کی طرف ہوسکتا ہے آپ کا دھیان ہی نہ گیا ہو.

بچوں کی تربیت اصل میں‌ہے کیا؟
میں اکثر ماؤں کو بچوں کی تربیت میں‌سر کھپاتے دیکھ کر حیران ہوتی ہوں کہ اتنی بھی کیا مصیبت آئی ہوئی ہے. آپ اپنے بچوں کے باس نہیں‌ہیں تربیت ایک بہت ہی نازک کام ہے جو بے حد سلیقے کی ڈیمانڈ کرتا ہے. اگر ایک بنیادی نکتہ ہرماں اپنے ذہن میں‌رکھ لے تو ہزار تکلیفوں‌سے بچ سکتی ہے. وہ یہ کہ بچے کی تربیت کے ساتھ ساتھ اپنی تربیت پر زیادہ دھیان دیں.

اگر آپ ایک اچھی سچ بولنے والی انسانیت کا درد رکھنے والی ماں‌ ہیں‌تو یہ ممکن ہی نہیں‌کہ بچے آپ کو فالو نہ کریں بچہ ہر حال میں‌اپنے ماں‌باپ کو فالو کرتا ہے. جھوٹ بولیں‌گے تو بچہ بھی کاپی کرے گا، ٹی وی اگر بڑے زیادہ دیکھیں‌گے تو بچہ بھی ہروقت سکرین سے چمٹا رہے گا. اگر ماں باپ لڑائی کریں گے تو بچہ بھی غصے کا تیز ہوگا. یہ کامن سینس کی بات ہے.قائداعظم نے کمال کی بات کہی تھی تم مجھے اچھی مائیں‌دو میں تمہیں اچھی قوم دوں‌گا. جس انسان کی اپنی شخصیت پاکیزہ کردار اور بلند اخلاق کی ہوگی اُس کے بچے بھی اچھے انسان بن کر سامنے آئیں‌گے.

سکول گھر کا نعم البدل نہیں‌ہوسکتا!
دیکھئے سکول میں اور خاص کر آج کل کے سکول میں‌بچوں کے کردار کو بنانے پر کوئی کام نہیں‌کیا جاتا صرف اور صرف تعلیم دی جاتی ہے. بچہ گھر آئے تو اس کی تربیت شروع ہوتی ہے ماں‌پہلی اُستاد ہوتی ہے. سکول کا کام ضرور کروائیں پڑھائی میں‌محنت بھی کروائیں مگر پلیز گھر کو گھر اور سکول کو سکول ہی رہنے دیں. اگر بچے کو بہت زیادہ پڑھائی پر مجبور کیا جائے تو بچہ ماں‌سے نفرت کرنے لگتا ہے.

بچوں کا ڈپریشن معمولی بات نہیں‌ہے!
ایک بات جسے آجکل کے ماں‌باپ بالکل اگنور کردیتے ہیں‌وہ بچوں‌میں‌بڑھتا ہوا ڈپریشن ہے. بچے کا ڈپریشن بڑوں جیسا ہی ہوتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو بڑوں کے ڈپریشن سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے. بچپن کے دُکھ بچے کے لاشعور میں ساری زندگی کیلئے نقش ہوجاتے ہیں. ماں‌باپ کی لڑائی جن لوگوں‌نے اپنے بچپن میں‌دیکھی ہے اُن سے پوچھ کر دیکھیں‌کہ تب اُنہیں جو محسوس ہوتا تھا وہ کیا تھا اور کیسا تھا. اب آگے میں‌بچوں کی تربیت کے حوالے سے اسی ڈپریشن کو ذہن میں‌رکھتے ہوئے کچھ تجاویز آپ کو دوں‌گی پلیز انہیں اپنے ذہن میں‌رکھئے گا.

اپنے بچوں کو گلے لگائیں:
بعض اوقات ہم اپنے بچوں کو اپنے خلاف کھڑا پاتے ہیں جو ہمارے لئے انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔آپ کے کہنے کے باوجود وہ کام جو ان کی مرضی کے خلاف ہو یاتو وہ کام کرنے سے پہلے منہ بناتے ہیں یا بعض اوقات صاف انکار بھی کر دیتے ہیں جس سے آپ کے اور بچوں کے درمیان تضاد شروع ہو جاتا ہے۔اکثر اوقات ایسےبچے اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ بھی بلاوجہ جھگڑا کرتے ہیں جو گھریلو ناچاقی کا باعث بنتے ہیں۔اس لئے آپ کو چاہئے کہ ایسے بچے پر خصوصی توجہ دیں اس کی بات کو سنیں اور اس کے ساتھ پیار اور محبت سے پیش آئیں اس سے بچے کے روئیے میں بہت مثبت تبدیلی آئے گی۔

بعض اوقات ایسے بچے اپنے برے روئیے سے دوسرے لوگوں کو بھی مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ برے طریقے سے پیش آئیں۔ایسی صورتحال میں آُپ کو ان کے ساتھ بہت پیار اور محبت سے پیش آنا چاہئے۔ ان کو گلے لگائیں تاکہ ان کے اندر ٹوٹا ہوا احساس دوبارہ پیدا ہو جائے،ان کے جذبات کو سمجھیں اورمسائل کو غور سے سنیں اس سے ان کے اندر اعتماد بحال ہو گا اور ان کو خود اپنی غلطیوں کا احساس ہو جائے گا۔

ان کے کام کی تعریف کریں ہر وقت تنقید کرنا بند کریں.
بچوں کی تعریف کرنا بہت بہترین عمل ہے اس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔زندگی کا اصول ہے کہ دوسروں کو ان کے اچھے کام پر سراہیں اس سے حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور کام کو مزید بہتر بنانے کی جستجو بڑھ جاتی ہے۔ کسی کی جائز تعریف کرنے سے بڑے بڑے معجزے ہوجاتے ہیں. ہمیں اپنے بچوں کیلئے بھی ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہئے جس سے ان میں کام کرنے کی لگن مزید بڑھ جائے اور ان کے اندر خوداعتمادی پیدا ہو۔کسی بھی معاملے میں انتہا پسندی مناسب نہیں ہے تھوڑی بہت ڈانٹ ڈپٹ بھی چلتی ہے لیکن بہت سی مائیں‌ایسی میں‌نے دیکھی ہیں‌کہ ہر کسی کے سامنے یہ میرا بچہ کچھ نہیں‌کھاتا، یہ میرا بچہ پڑھائی میں بہت تیز ہے، میرے اس بچے میں‌کانفیڈنس بالکل نہیں‌ ہے، یہ والا میرا بچہ غصے کا بہت تیز ہے جیسی باتیں‌آرام سے کری جاتی ہیں. یاد رکھیں کہ ہر بچہ اپنی فطرت میں معصوم پیدا ہوتا ہے آپ جو اپنے بچوں‌کو بار بار کہیں‌گی وہ ویسے ہی بن جائیں‌گے. غور کیجئے گا میری اس بات پر.

اپنے آپ کو قابو میں رکھیں:
ہم اکثر سوچتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو قابو میں رکھیں گے لیکن ہم نہیں رکھ پاتے۔بعض اوقات بچے تھکے ہونے کی وجہ سے چڑچڑے ہو جاتے ہیں اور چیختےچلاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں آپ بچوں پر چلانے کی بجائے اور ان کو ڈانٹنے کی بجائے ان کےساتھ نرمی سے پیش آئیں اور اپنے غصے کو کنٹرول کریں۔اگر آپ کا بچہ چیخ چلا کر کسی چیز یا کھانے پینے کی اشیا کی ڈیمانڈ کرتا ہے تو اسے پیار سے سمجھائیں کہ اگر وہ آہستہ یا دھیمے لہجے سے بات کرے گا توہی اس کی بات سنی جائے گی اس طرح سے آپ اپنے بچے کے رویے کو بھی درست کر پائیں گے اور اپنے آپ کو قابو میں رکھنے سے اپنی ذات میں بھی مثبت تبدیلی محسوس کریں گے۔ اگر آپ کا بچہ زیادہ ہی بگڑا اور سر پھرا ہو گیا ہے تو انتہائی عقلمندی اور سلیقے سے جوتے کا استعمال وقتاً فواقتاً کر دیا جائے۔بغاوت کی اجازت گھر میں نہیں دی جا سکتی۔

اگر بچہ ضد پر اڑ جائے تو اسے بتائیں کہ یہ ٹھیک نہیں لیکن بعض اوقات آپ اس کی ضد کو پورا کر دیں صرف اس شرط پر کہ اگلی بار ایسا نہیں ہو گا اور یادرکھیں اگلی بار ایسا ہونا بھی نہیں چاہیے۔ایسی صورتحال میں اگر بچہ بے جا تنگ کرنا شروع کر دے تو آپ اس کو اس کا وعدہ یاد دلائیں اور اگر وہ اس بات کوIgnore کرتا ہے تو آپ بھی اسے Ignore کر دیں۔اگر ایک وقت کا کھانا بچے کو نہ بھی ملے تو اسے اچھا سبق حاصل ہو جائے گا۔

غیر ضروری باتوں کو سوچنا بند کریں:
بعض اوقات ہم جو فیصلے کرتے ہیں وہ ہمارے مطابق تو بالکل ٹھیک ہوتے ہیں لیکن  بعض اوقات ہمارے خود سے کئے گئے فیصلے بھی ہمیں غلط لگنے لگ جاتے ہیں کیونکہ ہر روز مختلف طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑنے سے ہمارے رویے بدلتے رہتے ہیں اور کبھی کبھار ذہنی تناؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے ہم اپنا غصہ بچوں پر نکالتے ہیں جس سے بچے بھی ذہنی تناؤ محسوس کرتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بس اپنے تناؤ کا غصہ کبھی بھی اپنے بچوں پر مت نکالیں۔ ویسے اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ جب گھر کے اندر داخل ہوں تو باہر کی لائف کو باہر ہی چھوڑ کر آئیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول اپنے پلے سے باندھ لیں کہ جب مرد اپنے گھر کے اندر داخل ہوتو ایک بچے کی طرح ہو جائے جس سے کسی کو خطرے کا گمان بھی نہ ہو اور جب گھر سے باہر جائے تو ایسے ہو جائے جیسے شیر ہوتا ہے۔ یہ بات عورتوں پر بھی پوری اُترتی ہے.

کبھی کبھار غلطیوں کو نظر انداز بھی کر دیں:
بعض اوقات ہم اپنے بچوں کے ساتھ گھر کے اندر جنگ کا محاذ بنا لیتے ہیں اور ان کی ہر بات پر اختلاف کرتے ہیں جس کی وجہ سے بچہ بھی تناؤ میں رہتا ہے اور وہ کوئی بھی کام نہیں کر پاتا جو آپ کیلئے مزید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ اس طرح کے حالات سے بچنے کیلئے آپ کو اپنے بچے کے نظریات اور اس کی باتوں کو اہمیت دینے کی ضرورت ہو گی ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنا ہو گا۔ آپ کو چاہئے کہ بعض اوقات بچوں کی باتوں کو نظر انداز بھی کر دیں۔ہمیشہ اپنے بچوں کو ترجیح دیں ان کی بات کو سنئے خواہ وہ کتنی معمولی کیوں نہ ہو کیونکہ آپ کا رویہ ہی آپ کے بچے کیلئے آسانی کا باعث بنے گا۔

ان کو روزانہ باقاعدہ وقت دیں:
اس افراتفری کے دور میں ہم اپنے بچوں کو بہت زیادہ نظر انداز کرتے ہیں ان کی ضروریات کو نہیں سمجھ پاتے اور خیالات کو دبا دیتے ہیں جسکی وجہ سے ہمارے اور بچوں کے درمیان نہ چاہنے والے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔بعض اوقات حالات اس قدر بھیناک رُخ اختیار کر جاتے ہیں کہ بچے والدین کے تشدد،بے انصاف اور غیر فطری رویے سے مایوس ہو کر خود کشی کر لینے تک جا پہنچتے ہیں۔ایسے بھیانک حادثے ہماری زندگی کیلئے پچھتاوے کا باعث بن جاتے ہیں۔روزانہ خبروں میں کیا آپ ایسی کوئی نہ کوئی خبر نہیں پڑھتے کہ بچے کو موٹر سائیکل نہ لے کر دینے پر خودکشی کر لی یا پکنک کی اجازت نہ دینے پر گلے میں پھندا ڈال لیا۔ایسے دُکھوں سے بچنے کیلئے اپنے بچوں پر خصوصی توجہ دیں ان کے مسئلوں کو غور سے سنیں اور زندگی کے ہر موقع پر ان کی رہمنائی کریں تاکہ زندگی کے کسی بھی مقام پر آپ کے بچے کے اندر اعتماد کی کمی نہ ہو اور بچوں کا بھی آپ کے اوپر مکمل بھروسہ رہے۔

جو بچے اپنے سکول کے دوستوں‌سے زیادہ اپنی ماں‌پر اعتبار کرتے ہیں اُن کی ماؤں‌کو میرا سلیوٹ ہے. یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بچوں‌پر آپ کی محنت ضائع نہیں‌گئی.

ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ابھی بھی وقت ہے کہ آپ اپنے بچوں پر دھیان دینا شروع کر دیں۔یاد رکھیے بچوں کے روپ میں آپ کے گھر میں مستقبل کے اچھے یا برے مرد اور عورتیں پروان چڑھ رہے ہوتے ہیں وہ اچھے ہیں یا برے کل یہ بات تقدیر طے کرے گی لیکن آج یہ آپ کی ذمہ داری ہے اور اسی کے بارے میں آپ سے سوال کیا جائے گا۔۔۔

میرا پوسٹ آپ کو کیسا لگا؟ آپ اپنے بچوں کی ٹریننگ کیسے کرتے ہیں؟ کوئی آئیڈیا جو مجھ سمیت دوسرے Parents کے کام آسکے؟ کمنٹس میں شئیر کرنا نہ بھولیں. ٹوٹکے تو میں‌کرتی ہی رہتی ہوں‌اور کرتی ہی رہوں‌گی لیکن تھوڑا سا چینج بھی ہونا چاہئیے لائف میں.

کیٹاگری میں : انٹرٹینمنٹ