گلے میں درد اور نزلہ سے نجات کے آسان نسخے

1,552

گلے کا دکھنا بخار ہونے کی پہلی علامت ہوتی ہے اور اس کے علاوہ اس کے دیگر ضمنی اثرات بھی پائے جاتے ہیں، اس سے بھی بڑھ کر گلے کا دکھنا کئی شدید بیماریوں کی وجہ بن سکتا ہے۔ قطعہ نظر اس کے کہ گلے کے دکھنے کی کیا وجہ ہے، آپ کو فوری طور پر یہ دیکھنا چاہیے کہ آخر اس درد کی دوا ءکیا ہے اور گلے کے درد ہونے سے کیسے نجات پائی جاسکتی ہے۔ برمنگھم کے ڈاکٹر جنوی لینڈر جو کہ ویمن ہسپتال بوسٹن میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں گلے کے دکھنے کے حوالے سے یہ علاج اور احتیاطی تدابیر تجویز کرتی ہیں۔
-1 آتش انگیزانہ ادویات سے بچیے
گلے کے دکھنے کی بڑی وجہ آپ کی دوائیوں کی الماری ہوسکتی ہے اس لئے کہ اس میں پڑی دوائیوں کے کھانے سے گلہ متاثر ہوسکتا ہے جس سے بچنے کی ضرورت ہے۔ یہ ادویات دراصل درد سے نجات اور آتش انگیز اثرات سے مزین ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر لنڈر تجویز کرتی ہیں کہ ایسی صورت میں آپ Alvie’l یا Aleveنامی ادویات استعمال کریں۔
-2 نمکین پانی کے غرارے
ایک سے زائد تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ گلے کی سوجن کو کم کرنے کے لئے نمکین پانی کے غرارے بہت ہی کار آمد ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف سوجن کو کم کرتی ہے بلکہ پھیلنے والے بیکٹیریا کو بھی روکتی ہیں، ڈاکٹروں کے مطابق ایک گلاس پانی میں آدھا چمچ نمک ملا کر غرارے کرکے اسے افاقہ ہوتا ہے۔
-3 میٹھی گولیاں اور سپرے
منتھول نامی گولی منہ میں ٹھنڈک پیدا کرتی ہے اور اس کے چوسنے سے گلے کی انفیکشن ختم ہوتی ہے اور درد کی شدت میں بھی کمی آتی ہے اس کے علاوہ گلا سپرٹک سپرے بھی بہت اکسیر ثابت ہوتا ہے۔ جو کہ میٹھی گولی کی طرح ٹھنڈک پیدا کرتا ہے اور متاثرہ حصے سے جڑے تمام بیکٹیریا مار بھگاتا ہے۔
-4 کھانسی کا شربت
ظاہر ہے گلہ درد ہے تو کھانسی تو آئے گی تو ایسی صورت میں کھانسی کا شربت لیتے ہیں کوئی حرج نہیں۔ یہ سچ ہے کہ مریض کو کھانسی ہوگی نہیں لیکن گلے میں سوجن کی وجہ سے کھانسی کا دورہ بھی پڑ سکتا ہے تو ایسے میں کھانسی کا شربت بھی گلے کے درد سے بھی نجات دلاتا ہے۔
-5 سیال مادے
ڈاکٹر لینڈر کہتی ہیں کہ گلا خشک ہونے کی صورت میں مریض کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سیال مادوں کا استعمال کرکے یہاں تک کہ اس کے پیشاب کی رنگت بھی ہلکی زرد ہوجائے۔ اس بھاری مقدار میں سیال پینے سے متاثر حصے سے بیکٹیریوں کا خاتمہ وہتا ہے اور یہ میوکس کی تہہ کو بھی گیلا رکھتی ہے۔ جس سے جراثیموں کے خلاف لڑنے کی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے، اس ضمن میں ہر طرح کے جوسز اور یخنی بہت ہی مفید ہوتے ہیں۔
-6 چائے
اگر آپ پانی پی پی کر اکتا چکے ہیں تو پھر فوری طور پر چائے کا گرما گرما مگ پی جائیں جس سے گلے کے درد سے نجات ملے گی۔ یہ چائے بلیک، گرین یا سفید پتوں کی بنی ہو یکساں طور پر موثر ثابت ہوتی ہے اس لئے کراس میں آکسی آنٹی اور اکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو انفیکشن کو روکتی ہے۔
-7 چکن سوپ
پرانے نسخوں پر ایک نسخہ چیکن سوپ بھی ہوتا ہے جس سے گلے کے درد سے نجات ملتی ہے۔ ڈاکٹر لینڈر اس طریقہ علاج کو بہت ہی مفید قرار دیتی ہیں۔ یہ سوجے ہوئے گلے کو آرام پہنچتا ہے۔
-8 ہ ایک مٹھائی جو شکر، مکئی کے شیرےسے بنتی ہے۔ اس پر شکر کے سفوف کی تہہ چڑھا دی جاتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والا گودا یعنی گوند دکھتے گلے کے لئے اکسیر کا کام کرتا ہے۔
-9 بیڈ ریسٹ
یہ ایسا طریقہ علاج ہے جس میں دوائی بجائے احتیاط کا دامن پکڑا جاتا ہے اور درد سے نجات پائی جاتی ہے۔ گلے کے درد اور سوجن کی وجہ کولڈ وائرس ہے اور اس کی خوراک وقت سے ملنے والے دیگر وائرس اور بیکٹیریا ہوئے ہیں لہٰذا ان سے بچنے کے لئے ریسٹ یعنی آرام بہت ضروری ہے۔
-10 گلے کے سوجن کی ایک وجہ سٹراپھ کوسس پوٹے جینز نامی بیکٹیریا ہے جس کی ہلاکت کے لئے اینٹی بائیوٹک ادویات ضروری ہوتی ہیں۔ لیکن ایسی ادویات استعمال سے قبل ڈاکٹر کے مشورے میں ضرور جانا چاہیے۔

کیٹاگری میں : صحت