چمک دار دانت صحت مند زندگی کی علامت ۔۔۔

1,605

دانتوں کی صفائی کے دوران فلاس کرنا یعنی دانتوں کے درمیان کی جگہ کو صاف رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے، اگر فلاس نہ کیا جائے تو مسوڑھے خراب ہو جاتے ہیں اور دانتوں سے الگ ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ دھاگے سے فلاس سب سے اچھا ہوتا ہے۔ والدین کو چاہئے کہ اپنے دانتوں کے ساتھ ساتھ بچوں کے دانتوں کا بھی خیال رکھیں ۔ دانت میں اگر خرابی پیدا ہو جائے تو اسے نکلوانے کے بجائے اس کے علاج پر توجہ دینی چاہئے۔
دانت سفید نہ ہوں تو چہرہ برا لگتا ہے، دو سرا یہ کہ دانتوں کی گندگی ہماری خوراک کے ساتھ معدے میں جا کر خرابی پیدا کرتی ہے، دانت صاف ہوں گے تو صحت بھی اچھی ہو گی ۔ پہلے زمانے میں اتنے ٹوتھ پیسٹ نہیں ملتے تھے جتنے کہ آج کے دور میں دستیاب ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ بے شمار دانتوں کی تکالیف بھی بچو ں اور بڑوں میں شدت کے ساتھ نظر آرہی ہیں ۔ دانتوں کو چمک دار اور کیڑے سے محفوظ بنانے کے لئے ایک زبردست درج ذیل ہے۔
کھانے کا میٹھا سوڈا : ایک چائے کا چمچ
سرسوں کا تیل : ایک چائے کا چمچ
سمندری نمک : آدھا چائے کا چمچ
سہاگہ : آدھا چائے کا چمچ
ترکیب اور طریقہ استعمال
ان سب کو کسی پیالی میں ڈال کر اچھی طرح مکس کر لیں ۔ اب انگلی کی مدد سے یا ٹوتھ برش کے ذریعے دانتوں پر ملیں ۔ روزانہ صبح کو اس کا استعمال کریں ۔ اس کے استعمال سے اگر دانتوں پر پیلاہٹ ہے تو وہ بھی ختم ہو جائے گی اور دانت چمک اٹھیں گے اور اگر دانتوں میں کیڑا لگا ہوا ہے یا مسوڑھوں سے خون آتا ہے تو وہ بھی ایک ہفتے کے لگاتار استعمال سے ہی دانتوں کا کیڑا ختم ہو جائے گا اور مسوڑھوں سے خون آنا بھی بند ہو جائے گا۔
خوبصورت اور چمکدار دانت پروقار شخصیت کے علاوہ اچھی صحت کی علامت بھی ہوتے ہیں اوردانتوں سے خون نکلنے کو ہرگز معمولی نہ سمجھیں کیونکہ دانتوں سے خون نکلنا انفیکشن کی علامت ہوتا ہے۔ اس سے دانت کمزور ہو کر متاثر ہوتے ہیں اور جھڑ بھی سکتے ہیں۔