فٹنس اور دلکشی ایک ساتھ حاصل کرنے کے لئے زبردست ٹپس۔۔۔

11

“تندرستی ہزار نعمت ہے ” واقعی اگر انسان صحت مند او ر توانا ہو تو وہ ہر مشکل سے مشکل کام کو بھی کرنے کا پکا ارادہ کر لیتا ہے ۔ وہ دین کا کام بھی زیادہ اور اچھے انداز سے کر سکتا ہے اور دنیا کے کام بھی احسن طریقے سے سرانجام دے سکتا ہے ، لیکن بشرطیکہ وہ صحت مند ہو اور صحت مند رہنے کے لئے آپ کو متوازن غذا کا استعمال اور جن اشیاء سے آپ کی صحت کو نقصان ہو سکتا ہے ان سے پرہیز کرنا ضروری ہوگا۔خوبصورت نظر آنا ہر عورت کا خواب ہوتا ہے، لیکن خوبصورتی کے ساتھ ساتھ فٹنس اور تندرستی برقرار رکھنا بھی اسی قدر اہم ہے ۔ در ج ذیل سطور میں آپ کے لئے فٹنس اور دلکشی برقرار رکھنے کی کچھ تجاویز پیش کی جارہی ہیں۔
طرز زندگی میں کچھ تبدیلیاں
ایک تحقیق کے مطابق دن بھر میں استعمال کی جانے والی کیلوریز کی آدھی مقدار اگر ناشتے میں لے لی جائے تو اس سے آپ کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور آپ دن بھر چاق و چوبند رہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین صحت اور گھر کی بڑی بوڑھیاں بھرپور ناشتے پر زور دیتی ہیں ، تاہم بھرپور ناشتے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ گھی میں تر بتر پراٹھے اور تلے ہوئے انڈے کھائیں یا حلوہ پوری کا ناشتہ کریں۔ اس کی بجائے دلئیے کے ایک پیالے میں چکنائی والا دودھ شامل کرکے کھائیں اوراگر ممکن ہے تو اس میں موسم کے تازہ پھل کاٹ کر ملائیں اور نوش کریں۔
دھوپ کی اہمیت
ایک تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ صبح کی نرم دھوپ میں چند منٹ گزارنا بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس عمل سے جسم میں وٹامنD کی کمی پوری ہوتی ہے جو ہڈیوں اور پٹھوں وغیرہ کی صحت کے لئے بھی ضروری ہے ۔ آج کل شہری آبادی کا بڑا حصہ تنگ و تاریک مکانوں اور فلیٹوں میں زندگی گزارتا ہے ، جہاں دھوپ اور تازہ ہوا کا گزر نہیں،یہی وجہ ہے کہ خاص طور پر خواتین میں بیماریوں کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے۔ لہذا آپ کو چاہیے کہ گھر کے ٹیرس یا بالکونی کو اس طور سے ترتیب دیں کہ وہاں صبح کے وقت کچھ دیر بیٹھ کر تازہ ہوا اور دھوپ کی مدھم کرنوں سے لطف اندوز ہوا جاسکے۔ اس کے علاوہ براہ راست سورج کی شعاعوں سے اپنے آپ کو بچائیں، تا ہم گھر میں دھوپ اور ہوا کی آمدورفت کو یقینی بنائیں تا کہ گھر کا ماحول صحت بخش رہے۔
ورزش کو نہ بھولیں
موسم خواہ کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو اورآپ کتنی ہی مصروف کیوں نہ ہوں، لیکن ہلکی پھلکی سٹریچنگ ایکسرسائز کے لئے وقت نکالیں۔ سیڑھیاں چڑھنا ، اترنا ، آفس میں کام کے دوران تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد کھڑے ہوجانا اور کمرے یا کوریڈور میں تھوڑی بہت چہل قدمی کرنا، ایسے طریقے ہیں کہ جن پر عمل کر کے آپ اپنے مسلز اور جوڑوں کو آرام پہنچا سکتی ہیں۔ اگر آپ خاتون خانہ ہیں تو فٹ رہنے کے لئے گھر کی صفائی ستھرائی اور اسے ترتیب دینے کا کام خود سر انجام دیں۔
ٹیبلیٹس کم سے کم استعما ل کریں
ایک ریسرچ کے مطابق ٹیبلٹ کا استعمال کم سے کم کریں کیونکہ یہ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کے مقابلے میں آپ کے مسلز پر تین گنا زیادہ دباؤ ڈالتے اور برے اثرات مرتب کرتے ہیں اور ہونے والے اس اضافی دباؤ کے سبب آپ کمر کے درد اور دیگر مسائل میں مبتلا ہو سکتی ہیں ۔ یہ نتائج واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی کے 33 طلبہ پر ریسرچ کے ذریعے حاصل کئے گئے ، جو مختلف پوزیشن میں بیٹھ کر باقاعدگی سے ٹیبلیٹ استعمال کرتے تھے۔
موٹاپا موروثی بھی ہو سکتا ہے
ایک تحقیق کے مطابق جو خواتین اوور ویٹ ہوتی ہیں ، یا ان کا طرز زندگی غیر صحت بخش عادات پر مشتمل ہوتا ہے، ان کی اولاد میں موٹاپے کے امکانات دوسروں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہوتے ہیں ۔ایک ماں کی غیر صحت بخش عادات جیسے کہ نامناسب خوراک ، موٹاپا ، سگریٹ نوشی اور وٹامن D کی کمی وغیرہ ۔ اس کے بچوں پر بڑے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ایسے بچے چھ سال کی عمر کو پہنچنے تک موٹاپے کا شکار ہو جاتے ہیں۔
آپ کی صحت اور بچے کی ذہانت
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ماں جتنے زیادہ عرصے تک بچے کو اپنا دودھ پلاتی ہے ، اس کی ذہانت میں اضافے کے امکانات اسی قدر بڑھ جاتے ہیں ۔ ایک ریسرچ کے مطابق 6000 بچوں کا ان کی پیدائش سے لے کر تیس سال کی عمر تک مسلسل جائزہ لیا گیا ۔ ان میں کچھ بچے ایسے تھے جن کی ابتدائی پرورش ماں کے دودھ پر ہوئی جبکہ باقی بچے ڈبے کے دودھ پر پروان چڑھتے تھے۔ تیس سال بعد جب ان سب کا آئی کیو ( IQ ) ٹیسٹ کیا گیا تو وہ بچے جنہوں نے ماں کے دودھ پر پرورش پائی ، وہ ان بچوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ذہین تھے، جنہیں ماں کا دودھ میسر نہیں آسکا تھا۔ ماہرین صحت کے مطابق بریسٹ فیڈنگ سے ماں اور بچہ دونوں صحت مند رہتے ہیں اور ماں کے دودھ پر پرورش پانے والے بچے اپنی ذہانت کے سبب نہ صرف تعلیم بلکہ کیرئیر کے میدان میں بھی زیادہ کامیابیاں سمیٹتے ہیں۔
کمال پرستی کے نقصانات
کوئی بھی انسان مکمل کامل نہیں ہوتا،لہذا دنیا میں رہتے ہوئے ہرکام میں کمال پسندی یا پر فیکشن کی خواہش کرنا بہت سے مسائل کا سبب بنتا ہے۔ یہ پرفیکشنزم آپ کے لئے خاص طور پر دو طرح سے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، یعنی جب آپ دوسروں سے ایسی توقعات باندھیں گے جنہیں پورا کرنا ان کے بس میں نہ ہو تو ظاہر ہے کہ آپ کو مایوسی ہوگی،پرفیکشن یا کمال پسندی کی دوسری صورت یہ ہے کہ اپنی ذات سے غیر حقیقی توقعات وابستہ کرلی جائیں اور پھر انہیں پورا کرنے کے لئے اپنے اوپر جبر کیا جائے۔ دونوں صورتوں میں نقصان سراسر آپ ہی کا ہے، کیونکہ مایوسی اور ناکامی کی صورت میں آپ کی مجموعی صحت پر برے اثرات مرتب ہوں گے اور آپ ڈپریشن کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔
بعض لوگوں کو” سرد تاثیر” رکھنے والی اشیاء کی زیادہ ضرورت اور “گرم تاثیر” رکھنے والی اشیاء کے کم استعما ل کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی طرح بعض لوگوں کو” گرم تاثیر ” رکھنے والی اشیاء کی نسبت “سردتاثیر” رکھنے والی اشیاء کے زیادہ استعمال سے بچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لئے آپ کو اپنی صحت کے مطابق غذا استعمال کرنی چاہئے ،لیکن یہ اس وقت ممکن ہو گا جب آپ روزمرہ زندگی کی استعمال ہونے والی اشیاء کے متعلق معلومات رکھتے ہیں۔