بچے کی پیدائش کے بعد اسے اس ایک چیز سے ہر صورت دور رکھیں ورنہ ہمیشہ بیمار رہے گا، سائنسدانوں نے وہ بات بتادی جو پاکستانی والدین کو ہر صورت معلوم ہونی چاہیے

2,343

پلاسٹک کی اشیاءمیں موجود خطرناک کیمیکلز انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہوتے ہیں اور کئی طرح کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ اب سائنسدانوں نے ان کا ایک ایسا نقصان بتا دیا ہے کہ حاملہ اور بچے کو دودھ پلانے والی خواتین ان کو ہاتھ بھی نہیں لگائیں گی۔
میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق امریکن سوسائٹی فار مائیکروبائیولوجی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”پلاسٹک بیگز میں بائیسفینل اے (Bisphenol A)نامی موذی کیمیکل پایا جاتا ہے۔ اگر حاملہ خواتین یا بچوں کو دودھ پلانے والی مائیں اس کیمیکل کی زد میں آ جائیں تو ان کے بچے کے تمام عمر کے لیے معدے کے مسائل سے دوچار ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہو جاتے ہیں۔“

سائنسدانوں نے اس تحقیق میں خرگوشوں پر تجربات کیے۔ نتائج میں انہوں نے بتایا کہ ”یہ کیمیکل بچوں کے معدوں میں موجود اچھے اور برے بیکٹیریا کے توازن میں بگاڑ پیدا کر دیتا ہے جو تمام عمر ٹھیک نہیں ہو پاتا۔ بچوں کو دودھ پلانے والی ماﺅں کے لیے بھی یہ اتنا ہی خطرناک ہے کیونکہ یہ ماں کے دودھ کے ذریعے بچے میں منتقل ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ چنانچہ حاملہ اور بچے کو دودھ پلانے والی خواتین کو چاہیے کہ کھانے پینے کی ایسی اشیاءہرگز مت کھائیں جو پلاسٹک کی پیکنگ میں آتی ہیں۔ کھانے کی اشیاءلانے کے لیے شیشے یا سٹیل کے برتن استعمال کیے جانے چاہئیں تاکہ آپ کے بچے اس دائمی مرض سے محفوظ رہ سکیں۔“