ایسی عادات نوجوان لڑکوں کو بانجھ پن کا شکار بنا رہی ہیں

104

اعداد و شمار کے مطابق ہر 8 میں سے ایک شادی شدہ جوڑے کو اولاد کے حصول میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دشواری کا سامنا کرنے والے ہر 3 میں سے ایک جوڑے میں اس دشواری کی وجہ مرد کے سپرمز کی کمزوری ہوتی ہے۔ مردوں میں سپرمز کی مقدار کم ہونے اور ان کی افزائش نسل کی صلاحیت متاثر ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے رکن اجے ننجیا کا کہنا تھا کہ مچھلی کھانے سے گریز کرنے والے مرد نادانستگی میں اپنی افزائش نسل کی صلاحیت کو متاثر کر رہے ہوتے ہیں، لہٰذا بھرپور مردانہ صحت کے لئے مچھلی ضرور کھائیں کیونکہ مچھلی میں پایا جانے والا ”اومیگا3“ مردوں میں سپرمز کی تعداد بڑھانے اور انہیں موثر بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کچھ ایسے کام بھی ہیں جو اکثر مرد انجانے میں کرتے رہتے ہیں لیکن وہی کام ان کے سپرمز کو تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔ ان میں ایک کام رات کو دیر سے سونا اور مناسب نیند نہ لینا ہے۔ آرگنائزیشن کے ماہرین کے مطابق جو مرد 6 گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں ان کی افزائش نسل کی صلاحیت میں 31 فی صد کمی واقع ہو جاتی ہے۔ باپ بننے کے خواہش مند مردوں کو روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند لینی چاہیے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ جتنا زیادہ سوئیں گے آپ کی افزائش نسل کی صلاحیت اتنی زیادہ ہو گی۔ ماہرین کے مطابق 9 گھنٹے سے زیادہ سونا بھی جنسی ہارمون ٹیسٹاسٹرون کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے جو سپرمز کی پیداوار کے لیے ناگزیر ہے۔
مردوں کے سپرمز متاثر ہونے کی ایک بڑی وجہ مارکیٹ میں عام پائے جانے والے شوگری اور سوڈے کے حامل مشروبات ہیں۔ یہ مشروبات پینے سے مردوں میں انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا ہوتی ہے۔ ایسے میں ہمارے خلیے خون سے گلوکوز لینا ترک کر دیتے ہیں جس سے انفلیمیشن کی بیماری لاحق ہوتی ہے جو سپرمز کو انتہائی متاثر کرتی ہے۔ سپرمز کے ناکارہ ہونے کی ایک وجہ ذہنی دباﺅ بھی ہے۔ حد سے زیادہ ذہنی دباﺅ مردوں کے باپ بننے کی صلاحیت ختم کر دیتا ہے۔ اس سے بھی ایک خاص قسم کے انفلیمیٹری پروٹین پیدا ہوتے ہیں جو سپرمز کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ فون کو اپنی پینٹ کی جیب میں رکھنا اور شراب پینا بھی سپرمز کی تباہی کی وجوہات میں سے ہیں۔ موبائل فون سے خارج ہونے والی تابکاری سپرمز کے ڈی این اے میں بگاڑ کا باعث بنتی ہے جس سے وہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔