آج کل کے سخت اور مشکل دور میں بچوں کی پرورش کیسے کریں؟

786

ٹیکنالوجی نے بچوں کے نفسیات پر عجیب سااثرڈالا ہے آج کل  کے بچوں کے رویوں میں بڑا فرق آ گیا ہےاب بچے خود کو زیادہ عقل مند اور سمجھ دار سمجھتے ہیں بڑوں کی باتوں پر اعتراض ہوتاہےکہ بچوں کاخیال ہے دنیا جن روایات کے تحت تیزی سے چل رہی ہے اس میں ان کے والدین پوری طرح حصہ نہیں لے رہے ۔اور آج کی دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے جن تعلیمات کی ضرورت ہے وہ ان سے کو سوں دور ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ماں باپ اور بچوں کے درمیان فاصلہپڑھتا جارہا ہے آج سے چند سال پہلے ماں باپ کا خیال ہوتاتھاکہ انکے بچوں کی تربیت سب چیزوں سے پڑھ کر ہے لہذا گھر میں پوری طرح ایسا ماحول بنادیا جاتاتھا کہ بچے ایسی باتیں نہ سیکھیں جو ان کے ذہن اور کردار پر منفی اثر ڈالیں ۔ بچوں کو بھی پوری طرح سے والدین کے جذبات کا احساس ہوتاتھا اور اس طرح وہ زندگی کے دیئے ہوئے اسباق اور ماں باپ کی تربیت کے باعث کامیاب کہلاتے تھے پہلے وقتوں میں بچوں کی تربیت پڑا مشکل کام تھا اور خاص طور پر تب ، جب سازگار ماحول بھی دسیتیاب نہ ہو لیکن سچ تو یہ ہے کہ آ ج کل کا دور پہلے دور کے مقابلے میں اور بھی سخت اور مشکل ہے .

جب بچے خود کو زیادہ سمجھدار ماننے لگتے ہیں ۔ انہیں ماں باپ کی قربانیاں فرسودہ دکھائی دیتی ہیں یہ معاشرے کا وہ تاریک پہلو ہے جسے لوگ دیکھ رہے ہیں مگر بیان کرنے سے قاصر ہیں اور جو نہیں دیکھ پارہے دہ اس کا حصہ بنتے جارہے ہیں. پہلے کے زمانے میں ماں باپ کی روک ٹوک بچوں کے لیے حکم کا درجہ رکھتی تھی لیکن آج بچے ماں باپ کی ان روک ٹوک کو بے جا خیال کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں پرانے خیالات کا ما نتے ہیں .اگر ہم ان ساری باتوں کو جدید دنیا کی نظر سے دیکھیں تو یہ سچ ہے کہ بچوں کے روئیے میں ماحول اور وقت بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ جیسے جیسے ماحول اور وقت بدلاہے ویسےویسے جدید ماحول کے تقاضون کے ساتھ ساتھ ماں باپ نے بھی اپنی تربیت کو کافی حد تک بدل دیا ہے آپ کا بچہ دنیا کا بہتریں ایٹھلیٹ ہو یا بہتریں کاروباری فرد یا اچھا بزنس مین ہو لیکن اگر وہ اچھا انسان نہیں ہے تو کوئی فائدہ نہیں ۔ اسے لوگوں سے بات کرنے کی تمیز نہ ہو ، اپنے غصے پر کنٹرول نہ ہو ، وہ لوگوں سے میل جول صرف مفادات کی بنیاد پر کرتا ہو تو یقیناًاس کی تر بیت میں کمی رہ گئی ہو گی.

بچے 24گھنٹوں میں 16 کھنٹے ماں باپ کی زیر نگرانی گزارتے ہیں .اگر آپ اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوں گے تو آپ اپنے بچوں کی تر بیت میں ایسا خلاچھوڑ تے ہیں جسے پر کرنا آسان نہیں ہوگا یہ ٹھیک ہے کہ ہم نے تما م فیصلے اور اختیارات بچوں کو دیئے ہیں ۔ پہلے ماں باپ کی آواز میں اولاد کے جذبات اور احساسات دب جاتے تھے یہی وجہ تھی کہ والدین کبھی کبھار بچوں کے لیے غلط فیصلہ بھی لے لیتے تو ماں باپ کے ان فیصلوں کو نبھا نا اولاد کی ذمہ داری بن جاتی تھی ۔ لیکن آج کل کے بچوں کی دلیلوں کے آگے ماں باپ اپنے فیصلوں پر پشیمان نظرآتے ہیں ۔ ہم نے اپنے بچوں سے میل جول اور محبت کے جذبات چھین کر انہیں معاشرے کا خود غرض انسان بنادیا ہے ہم اپنے بچوں کو بہتر سے بہترآسائشیں تو دیتے ہیں لیکن ان کی تربیت کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں رہا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے بچے ہم سے دور اور مشینوں کے نزدیک ہوگئے ہیں۔اور اب ہم سے زیادہ جاننے کا دعویٰ کرنے لگے ہیں ۔ ہمارے دور میں اور کل کے دو ر میں کیا فرق تھا اور کیا فرق ہے ؟ہم اس تاریک حصے کو دیکھ رہے ہیں مگر بیان کرنے سے قاصر ہیں

وقت کرتا ہے پرورش برسوں                 حادثے بے سبب نہیں ہوتے

آج کل کے ماحول  میں آپ اپنے بچوں کی تربیت ان ٹپس کے مطابق کرسکتے ہیں ۔

بچوں کی تعریف کریں ۔ اس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ بہتر کا م کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
بچوں کی تربیت میں یہ بات بھی بہت مفید ہے کہ ان کی بات کو سنا جائے اور محبت سے پیش آیا جائے ، اس طرح بچے کے رویے میں مثبت تبدیلی آتی ہے ۔
کبھی بھی پریشانی اور ٹینشن کی وجہ سے غصہ اپنے بچوں پر مت اُتاریں ۔ اس کے لیے بہتریں حل یہ ہے کہ آپ جب گھر آئیں تو باہر کی ٹینشن کو باہر ہی چھوڑ کر آئیں ۔
اگر بچے سے کوئی غلطی سر زد ہو جائے تو کھبی کبھار نظر انداز بھی کردینا چاہیے۔
بچوں کےلیے وقت نکالیں اور ان کے خیالات کوسمجھنے کو کوشش کریں ۔                                                                                                                                                               زندگی کے ہر موڑ پر ان کی رہنمائی کریں تاکہ زندگی کے کسی مقام پر بچے میں اعتماد کی کمی نہ ہو اور دہ آپ پر مکمل بھروسہ کرسکے۔